سعودی فیملی وزٹ ویزا: سعودی مقیم پاکستانی اپنے گھر والوں کو کیسے بلوائے — اردو گائیڈ
قلمکار: Huzi
File #988 · 4 منٹ مطالعہ
ریاض میں بیٹا کام کرتا ہے اور سیالکوٹ میں ماں دعا کرتی ہے — ان کے درمیان ایک ویزا کیٹیگری حائل ہے جسے فیملی وزٹ ویزا کہتے ہیں۔ یہ سیاحتی ویزا نہیں، عمرہ ویزا نہیں، اور مستقل فیملی رہائش بھی نہیں — یہ اپنی الگ فائل ہے جو سپانسر سعودی عرب کے اندر سے داخل کرتا ہے اور زائر پاکستان میں اسے مکمل کرتا ہے۔ عمل بالکل واضح ہے، بس ترتیب سمجھ لیں۔
کون کون بلوا سکتا ہے
درخواست درست ورک اِقامہ (Iqama) رکھنے والا وہی شخص دیتا ہے جو سعودی عرب میں ملازم ہے۔ سنگل انٹری فیملی وزٹ ویزے دسمبر 2025 میں دوبارہ کھولے گئے اور ان رشتوں کو عام طور پر منظوری ملتی ہے:
- والدین — ماں باپ، دادی دادا
- شریکِ حیات اور بچے
- بہنیں اور بھائی
- سسر اور ساس
چچا، ماموں اور دور کے رشتے اس دروازے میں عموماً شامل نہیں؛ کچھ پیشوں پر پابندی بھی ہو سکتی ہے — سپانسر پہلے اپنی کمپنی سے تصدیق کروا لے۔ انگریزی فائل Saudi Family Visit Visa From Pakistan میں یہی عمل مرحلہ وار موجود ہے۔
خرچ کی اصل تصویر
- سرکاری ویزا فیس — سنگل انٹری 300 سعودی ریال، ملٹیپل انٹری 500 ریال
- میڈیکل انشورنس — لازمی، پورے قیام کی میعاد کو ڈھانپے
- چیمبر آف کامرس سرٹیفکیٹ — اگر کمپنی پلیٹ فارم پر خود تصدیق نہ کرے تو تقریباً 35 ریال
ادائیگی صرف سرکاری پلیٹ فارم یا باضابطہ ویزا سینٹر سے کریں۔
سپانسر کی طرف کا عمل
سپانسر MOFA ویزا پلیٹ فارم یا اپنے عبشر اکاؤنٹ سے درخواست دیتا ہے، نافاث (Nafath) ایپ سے اپنی شناخت کی تصدیق کرواتا ہے، اور زائر کے پاسپورٹ کی تفصیل، رشتہ اور ویزا کی قسم درج کرتا ہے۔ دو باتیں یہاں سب سے زیادہ فائلےں روکتی ہیں: زائر کا نام پاسپورٹ کے صفحے سے حرف بہ حرف ویسا ہی ہونا چاہیے — اردو ناموں کی نقلِ حرف میں ایک حرف کا فرق کافی ہے — اور چیمبر یا کمپنی کی تصدیق مکمل ہونا چاہیے۔ فیصلہ عموماً تین سے پانچ کاروباری دنوں میں آتا ہے، پھر دعوتی نمبر (Invitation Number) پاکستان کے خاندان کو بھیج دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں زائر کے پاس کیا ہونا چاہیے
- پاسپورٹ کم از کم چھ ماہ میعاد کے ساتھ
- حالیہ تصاویر سفید بیک گراؤنڈ میں
- رشتے کا ثبوت — نکاح نامہ، برتھ سرٹیفکیٹ یا بی فارم
- نادرا پولیو سرٹیفکیٹ — 14 ستمبر 2026 سے پاکستانی ایئرپورٹس صرف NIMS سے جاری شدہ ڈیجیٹل سرٹیفیکٹ مانگتے ہیں؛ تفصیل نادرا پولیو سرٹیفکیٹ والی فائل میں ہے
- تسحیر/ایٹماد سینٹر پر بائیو میٹرک اپائنٹمنٹ
ویزا ملنے کے بعد سب سے بڑی غلطی
وزٹ ویزا جاری ہوتے ہی اس کی آخری داخلے کی تاریخ (Final Entry Date) خودکار طے ہو جاتی ہے — مثال کے طور پر ستمبر اور اکتوبر 2026 میں جاری ویزوں پر یہ تاریخ 11 نومبر 2026 تھی۔ خاندان اکثر یہ تاریخ دیکھے بغیر سستے سستے ٹکٹ کا انتظار کرتا ہے اور ویزہ ہاتھ میں رہ کر بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ ویزا MOFA پورٹل سے پرنٹ کروا کر ایئر لائن اور ایئرپورٹ کے ساتھ رکھیں۔
داخلے کے بعد — قیام اور توسیع
سنگل انٹری پر قیام 90 دن تک ہے۔ مزید دن چاہییں تو سپانسر اپنے عبشر سے Family Members Services کے ذریعے توسیع کر سکتا ہے: فیس 100 ریال، انشورنس بھی بڑھے ہوئے عرصے کو ڈھانپے، اور کل قیام 180 دن سے آگے نہ بڑھے۔ ایک یاد دہانی: حج کے سیزن کی بندش میں درست وزٹ ویزا بھی مکہ میں داخل نہیں ہو سکتا — حج سیزن لاک آؤٹ والی فائل تاریخوں اور جرمانوں کی پوری سیڑھی بتاتی ہے۔
فیملی وزٹ بمقابلہ عمرہ ویزا
اگر مقصد بیٹے یا بیٹی کے ساتھ کھلے عام کچھ مہینے گزارنا ہے تو فیملی وزٹ درست دروازہ ہے — ہوٹل کی بکنگ کی پابندی نہیں اور قیام لمبا ہوتا ہے۔ اگر مقصد عبادت اور مختصر روحانی سفر ہے تو عمرہ ویزا سادہ ہے۔ اور جو خاندان سال میں دو تین بار سعودی عرب آنا چاہتا ہے اس کے لیے ایک سالہ ملٹیپل انٹری عمرہ ویزا الگ حساب رکھتا ہے۔
ویزے کے ان قواعد کو پڑھتے ہوئے دل ٹھہر کر یہ سوچنا ٹھیک لگتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کو بلانے کے لیے کاغذ بھرتے ہیں، مگر غزہ میں ماوں سے بچے زبردستی الگ کیے جا چکے ہیں — قید خانوں میں بچوں سے ان کے والدین کا نام بھی نہیں بتایا جاتا؛ میں اللہ سے فلسطین کے الگ ہوئے خاندانوں کے دوبارہ ملنے کی دعا مانگتا ہوں۔ سوڈان کی جنگ نے بھی لاکھوں کو سرحدوں پر بچھا دیا ہے — سوڈان کے بکھرے ہوئے خاندانوں کے لیے بھی میری یہی دعا ہے۔
فیملی وزٹ ویزے کی پوری فائل — دعوتی نمبر سے لے کر عبشر کی توسیع تک — سپانسر اور زائر دونوں کی باری باری کی فہرست بن جائے تو آدھا کام مکمل ہو جاتا ہے۔ HTG Travels یہ فہرست آپ کے لیے تحریری شکل میں بناتا ہے، ہر مرحلے پر جواب دیتا ہے، اور ویزہ اور انشورنس کی تاریخوں کا خود کار ٹریکر رکھتا ہے۔ آج ہی اپنے خاندان کا پلان بنوائیں: +92 317 5054959




