تولی پیر، راولا کوٹ اور بانجوسا جھیل: آزاد کشمیر کے پونچھ کا مکمل ویک اینڈ پلان
قلمکار: Huzi
File #979 · 4 منٹ مطالعہ
تولی پیر آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ میں راولا کوٹ شہر سے تقریباً تیس کلومیٹر پہاڑی سڑک پر واقع ایک بلند و بالا سبز مقام ہے جہاں کھڑے ہو کر پونچھ کی وادیاں، راولا کوٹ کا شہر اور دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے ایک ہی نظارے میں سما جاتے ہیں۔ اسلام آباد اور لاہور کے تھکے ہوئے شہریوں کے لیے یہ شمال کے مہنگے اور طویل سفر کا سستا، قریب اور خاندان کے لیے محفوظ متبادل ہے — اور یہی وجہ ہے کہ ہر گرمی کے موسم میں یہاں رش لگتا ہے۔
یہ سفر کس کے لیے ہے
- شہر سے نکل کر جلدی سے پہنچنے والوں کے لیے — اسلام آباد سے صرف چار گھنٹے کا فاصلہ۔
- خاندانوں کے لیے — راستہ اچھا، ہوٹل دستیاب، اور بچوں کے لیے جھیل اور کھلے میدان۔
- بجٹ والے مسافروں کے لیے — ہنزہ اور سکردو کے مقابلے میں آدھے خرچ میں پہاڑوں کا مزہ۔
- تصویر کشی کے شوقینوں کے لیے — جھیل، جنگلات اور بلندی کے مناظر ایک ہی ٹرپ میں۔
اسلام آباد سے راولا کوٹ کیسے پہنچیں
سب سے عام راستہ یہ ہے: اسلام آباد سے کہوٹہ ہوتی ہوئی آزاد پٹن پُل عبور کر کے راولا کوٹ — کل ملا کر تقریباً ایک سو بیس کلومیٹر اور چار گھنٹے۔ لاہور سے آنے والے مسافر جی ٹی روڈ سے ہوتے ہوئی اسی راستے پر آ سکتے ہیں؛ کل سفر تقریباً چھ سے سات گھنٹے کا بنتا ہے۔ مری ہوتی ہوئی آنے والا متبادل راستہ لمبا مگر نہایت خوبصورت ہے۔ ذاتی گاڑی، پبلک بس یا پھر قافلے کی صورت میں پرائیویٹ وین — ہر طرح کا انتظام ممکن ہے۔
آزاد کشمیر داخلے پر چیک پوائنٹ آتا ہے: شناختی کارڈ ساتھ رکھنا لازمی ہے اور غیر ملکی سیاح کے لیے پاسپورٹ کی تصویر اور اندراج فارم کا انتظام پہلے سے کرنا پڑتا ہے۔
بانجوسا جھیل
راولا کوٹ سے اٹھارہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر بانجوسا جھیل ہے — گھنے صنوبر کے درختوں میں گھری اس مصنوعی جھیل کا پانی ٹھنڈا اور صاف ہوتا ہے۔ یہاں کشتی سوار، مچھلی کا شکار اور ساحل پر پکنک کا خوب مزہ آتا ہے۔ عید کے دنوں اور تعطیلات میں یہاں خاندانوں کا بڑا رش لگتا ہے — سکون چاہنے والے صبح کا وقت منتخب کریں۔
تولی پیر کی چڑھائی
راولا کوٹ سے تولی پیر تقریباً تیس کلومیٹر دور ہے اور سفر چالیس سے پچاس منٹ کا ہے، مگر آخری چند کلومیٹر کی سڑک کچی اور تنگ ہے — چھوٹی یا اونچی گاڑی بہتر رہے گی، اور سیزن میں مقامی جیپ بھی مل جاتی ہے۔ اوپر ایک اولیاء اللہ کا مزار ہے جس کے نام پر یہ مقام مشہور ہے، ساتھ گھاس کے میدان اور جنگلات ہیں جہاں سے پونچھ اور بھمبر کی وادیوں کا پانوراما کھلتا ہے۔
کب جانا چاہیے
مئی سے ستمبر کا عرصہ بہترین ہے — دن کا موسم خوشگزار اور آسمان صاف۔ جولائی اگست میں بارش کی صورت میں راستے کیچڑ ہو سکتے ہیں۔ سردیوں میں تولی پیر پر برف باری خوبصورت ہوتی ہے مگر اوپر کی سڑک متاثر ہو سکتی ہے — نکلنے سے پہلے مقامی حالات معلوم کریں۔
دو دن کا پلان
- پہلا دن — صبح اسلام آباد سے روانگی، دوپہر راولا کوٹ پہنچ کر ہوٹل چیک اِن، شام بانجوسا جھیل کی سیر اور واپسی پر شہر میں مقامی کھانا۔
- دوسرا دن — صبح کی نور میں تولی پیر کی چڑھائی، اوپر گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ قیام، ظہر کے بعد راولا کوٹ واپسی اور شام کو اسلام آباد روانگی۔
رہائش اور ضروری باتیں
راولا کوٹ میں بجٹ سے لے کر درمیانے درجے کے ہوٹل اور کچھ خوبصورت ریزورٹ موجود ہیں؛ موسمِ گرما اور تعطیلات میں ریٹ بڑھ جاتے ہیں اور جگہ پہلے سے بک کروانا بہتر ہے۔ کھانے میں مقامی ہوٹلوں کا بنایا کھانا اور چکن کاراہی مشہور ہے۔
ساتھ لے جائیں:
- سنیکر اور ہلکی جیکٹ — بلندی پر ہوا چلتی ہے
- شناختی کارڈ اور نقد روپے — شہر سے باہر اے ٹی ایم محدود
- بنیادی دوائیں اور پانی کی بوتلیں
- کیمرہ اور پاور بینک — فوٹو گرافی کے مواقع بے شمار ہیں
واپسی پر اگر وقت ہو تو آزاد کشمیر کے ہی ضلع نیلم کا سفر بھی سوچیں — ہماری نیلم ویلی مکمل گائیڈ اس سفر کا نقشہ ہے۔ سردیوں میں قریبی مقام کے لیے مری اور جلیات کی فائل پڑھیں اور لمبے موسمِ گرما کے پروگرام کے لیے سوات اور کالم کا خاندانی گائیڈ موجود ہے۔
فلسطین کی سرسبز وادیاں اور کھیتی اسرائیلی قبضے میں چھینی جا رہی ہیں جبکہ ہم اپنی وادیوں کی سیر کرتے ہیں — غزہ کے مظلوموں کے لیے دعا ہمارے بس کا کمترین قرض ہے۔ سوڈان میں جنگ نے ماں باپ سے بچوں کو جدا کر دیا ہے اور بھوک کو ہتھیار بنا دیا ہے — سوڈان کے مظلوم بھی میری دعاؤں میں شامل ہیں۔
ویک اینڈ کا یہ چھوٹا سا سفر بھی درست منصوبہ بندی کے بغیر بے سود ہو جاتا ہے۔ HTG Travels آزاد کشمیر اور شمالی پاکستان کے دوروں کی مکمل ترتیب دیتا ہے — ہم مسافر نمبر نہیں، مہمان سمجھتے ہیں، ہر پیغام کا جواب دیتے ہیں اور چوبیس گھنٹے دستیاب رہتے ہیں۔ راولا کوٹ اور تولی پیر کا پیکج بنوانے کے لیے ابھی رابطہ کریں: +92 317 5054959۔




